8 جنوری 2012 - 20:30

يمن کے ہزاروں باشندے جنھوں نےکچھ دنوں قبل صوبہ الحديدہ ميں کرامت کے عنوان سے دارالحکومت صنعا کي جانب احتجاجي مارچ شروع کيا تھا اب صنعا کے التغيير اسکوائر پر پہنچ گئے ہيں.

ابنا: مظاہرے کے شرکاء ڈکٹيٹر عبداللہ صالح اور اس کے قريبي ساتھيوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کررہے ہيں -

مظاہرين نے خليج فارس تعاون کونسل کے فارمولے اور عبداللہ صالح کو عدالتي استثنا ديئے جانے کے منصوبے کو مسترد کر کرتے ہوئے اپنے اس مطالبے پر زور ديا کہ بے گناہ يمني شہريوں کا قتل عام کرنے کے جرم ميں عبداللہ صالح کو سزا دي جائے -واضح رہے کہ عبداللہ صالح نے گذشتہ نومبر کے مہينے ميں سعودي عرب کے دارالحکومت رياض ميں ايک سمجھوتے پر دستخط کئے تھے جس کي بنياد پر اس نے اقتدار اپنے جانشين عبد ربہ منصور ہادي کو منتقل کرديا اور اس کے عوض عدالتي استثنا حاصل کرليا - اقوام متحدہ کے انساني حقوق کميشن کے سربراہ نے بھي يمني مظاہرين پر عبداللہ صالح کي حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں کي فائرنگ پر تنقيد کرتے ہوئے کہاکہ عبداللہ صالح کو محض اس بنا پر معاف نہيں کيا جانا چاہئے کہ اس نے اقتدار سے کنارہ کشي اختيار کرلي ہے -

عبداللہ صالح کے مخالفين کا کہنا ہے کہ عبداللہ صالح اس سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد اپنے ساتھيوں کي مدد سے يمن ميں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کرنا چاہتا ہے.

........

/169